
كتنا آسان تھا ترے ہجر ميں مرنا جاناں
پھر بھی اك عمر لگی جان سے جاتے جاتے
آپ انہیں 'شاہ رومان' کہیں یا 'شاعر رومان' بہرحال احمد فراز اور رومان کسی زمانے میں اور شائد مستقبل میں بھی مترادف الفاظ کے طور پر جانے جائیں گے ۔
میں نے فراز کا جو پہلا مجموعھ پڑھا ، وہ تھا "غزل بہانھ کروں" ۔ اس کے بعد ایک دو اور مجموعے بھی پڑھے ۔ اس سے پہلے مجھے شاعری پڑھنے کا شوق تو تھا لیکن یہ شوق صرف اقبال تک محدود رہا تھا لیکن فراز نے اسے ہمہ جہت بنادیا ۔ اس کے بعد نے فیض کو پڑھا اور بعد میں بہت کچھ ۔ اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے لیے اردو شاعری کے خوبصورت تخلیقات کا در وا کرنے والے احمد فراز ہی تھے ۔
ان کی موت کو اگر ہم اردو شاعری میں رومانوی شاعری کی موت نہیں سکتے تو کم از کم پختونستان یا پختونوں کی حد تک تو اردو شاعری کی موت واقع ہی ہوچکی ہے ۔ میں نہیں دیکھتا کہ فراز کے بعد کوءی اور پختون اس پایے کی اردو شاعری کرلے گا ۔
پاکستان میں اچھے لوگوں کی ویسے بھی کمی ہے اور فراز کی موت سے یہ قحط اور بھی زیادہ ہوجاءے گا ۔ لیکن خود کو حوصلہ دینے کے لیے کسی کا وہ قول یہاں لکھ دیتا ہوں کہ 'دنیا میں پھول تب کھلتے ہیں جب شاعروں کے بدن جزو خاک بن جاتے ہیں
ہم پاکستانیوں کو اور خاص طور پر پختونوں کو احمد فراز کی جسدخاکی سے کھلنے والے پھولوں کا نہایت ہی بے چینی سے انتظار رہے گا کیونکہ اج اس ملک اور اس خطے کو پھولوں کی جتنی ضرورت ہے ؛ شاید پہلے کبھی نہ تھی ۔ عرصہ ہوا ایک افغان شاعر نے افغانستان اور افغان قوم کا درد اپنے اشعار میں بیان کرتے ہوءے فاحتاوں اور پرندوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اکر اس کے جوڑے ہوءے ہاتھوں میں اپنے گھونسلے بنالیں کیونکہ ان کے گھونسلوں کے لیے پہاڑوں پر کوءی چیڑ اور میدانوں میں کوءی چنار سلامت نہیں رہا ہے ۔
اج وہی کیفیت میرے وطن کی ہے ۔ وزیرستان ، سوات اور باجوڑ کے بعد اب یہ ناسور پھیلتے ہی جارہا ہے ۔
آپ انہیں 'شاہ رومان' کہیں یا 'شاعر رومان' بہرحال احمد فراز اور رومان کسی زمانے میں اور شائد مستقبل میں بھی مترادف الفاظ کے طور پر جانے جائیں گے ۔
میں نے فراز کا جو پہلا مجموعھ پڑھا ، وہ تھا "غزل بہانھ کروں" ۔ اس کے بعد ایک دو اور مجموعے بھی پڑھے ۔ اس سے پہلے مجھے شاعری پڑھنے کا شوق تو تھا لیکن یہ شوق صرف اقبال تک محدود رہا تھا لیکن فراز نے اسے ہمہ جہت بنادیا ۔ اس کے بعد نے فیض کو پڑھا اور بعد میں بہت کچھ ۔ اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے لیے اردو شاعری کے خوبصورت تخلیقات کا در وا کرنے والے احمد فراز ہی تھے ۔
ان کی موت کو اگر ہم اردو شاعری میں رومانوی شاعری کی موت نہیں سکتے تو کم از کم پختونستان یا پختونوں کی حد تک تو اردو شاعری کی موت واقع ہی ہوچکی ہے ۔ میں نہیں دیکھتا کہ فراز کے بعد کوءی اور پختون اس پایے کی اردو شاعری کرلے گا ۔
پاکستان میں اچھے لوگوں کی ویسے بھی کمی ہے اور فراز کی موت سے یہ قحط اور بھی زیادہ ہوجاءے گا ۔ لیکن خود کو حوصلہ دینے کے لیے کسی کا وہ قول یہاں لکھ دیتا ہوں کہ 'دنیا میں پھول تب کھلتے ہیں جب شاعروں کے بدن جزو خاک بن جاتے ہیں
ہم پاکستانیوں کو اور خاص طور پر پختونوں کو احمد فراز کی جسدخاکی سے کھلنے والے پھولوں کا نہایت ہی بے چینی سے انتظار رہے گا کیونکہ اج اس ملک اور اس خطے کو پھولوں کی جتنی ضرورت ہے ؛ شاید پہلے کبھی نہ تھی ۔ عرصہ ہوا ایک افغان شاعر نے افغانستان اور افغان قوم کا درد اپنے اشعار میں بیان کرتے ہوءے فاحتاوں اور پرندوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اکر اس کے جوڑے ہوءے ہاتھوں میں اپنے گھونسلے بنالیں کیونکہ ان کے گھونسلوں کے لیے پہاڑوں پر کوءی چیڑ اور میدانوں میں کوءی چنار سلامت نہیں رہا ہے ۔
اج وہی کیفیت میرے وطن کی ہے ۔ وزیرستان ، سوات اور باجوڑ کے بعد اب یہ ناسور پھیلتے ہی جارہا ہے ۔
زندگی اور موت کے حوالے سے فراز کے چند اشعار
زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ھے
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احساں جاناں
ایک ضرب اور بھی اے زندگی تیشہ بدست
سانس لینے کی سکت اب بھی مری جاں میں ہے
اور اخر میں چند اشعار ، جو فراز کے بعد ہماری زندگی کی عکاسی کرتے ہیں
چوب نم خوردہ کی مانند سلگتے رہیں ہم
نہ تو بجھ پائیں ، نہ بھڑکیں نہ دہلکتے جاویں
تری بستی میں تیرا نام پتہ کیا پوچھا
لوگ حیران و پریشان ہمیں تکتے جاویں
1 comments:
well written, May his soul rest in peace. Ameen
Post a Comment