کل میں اپنے کمپیوٹر کے ساتھ شطرنج کھیل رہا تھا ؛ چونکھ میں اپنے شریف صاحب کی طرح اس کھیل کے الف ب سے واقف نہیں ، اسلیئے ہر بار مات کھانی پڑی اور میرا کمپیوٹر بڑی مہارت سے اپنے داؤ کھیل رہا تھا ۔ شطرنج کوئی بھی ہو ، کھلینے سے پہلے پوری جانکاری ہونی چاہیئے اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیئے ؛ کل کے کھیل سے میں نے کم از کم یہی سیکھا ۔
کھیلتے ہوئے مجھے جناب زرداری اور جناب نواز شریف کے درمیان جاری سیاسی بساط پر جاری شطرنج کا بار بار خیال آتا رہا کھ کس کمال ہوشیاری سے پی پی پی نے مسلم لیگ ن کو استعمال کرتے ہوئے ایک اتحادی حکومت کا ڈرامھ رچا کر امریکھ اور برطانیھ کو 'سحرزدہ' کیا ۔ بعد ازاں اسی قوت کو استعمال کرتے ھوئے مشرف کو رخصت کیا ۔ ججوں کی بحالی کا مسئلھ ٹالتے رہے ، کرسی صدارت کے لئے زرداری صاحب کو 'متفقھ امیدوار' کے طور پر پیش کیا اور آخر میں کہا گیا کھ 'معاہدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے' ۔
اب نواز شریف صاحب کے لئے بہت ہی محدود راستے بچے ہیں جبکھ سب کچھ پی پی پی اور زرداری صاحب کے پلان کے مطابق ہورہا ہے ۔ پی پی پی نے اپنے پیادے ، سوار اور دیگر تمام 'ریسورسز' نہایت مہارات اور چالاکی سے استعمال کیے ۔ سندھ ہائی کورٹ میں 'چند' ججز کی بحالی کے بعد وزیر قانون کی طرف سے ججوں کی بحالی سے متعلق 'تفصیلی طریقھ کار' کی وضاحت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ ججز اس طرح ٹولیوں میں بحال کئے جائیں گے اور اس طرح وکلا تحریک خود بخود دم توڑ جائے گی ۔
معزول چیف جسٹس افتحار محمد چودھری سمیت چند معزول جج صاحبان ، اعتزاز احسن اور دیگر وکلا لیڈرز کا ردعمل کیا ہوگا ؟ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے لئے کونسا راستھ بچا ہے؟ یھ ان چند سوالات میں سے ہیں جو اگلے چند ہفتوں میں زیربحث آئیں گے ۔
چند دن قبل میں نے ایک بکواس ہندوستانی فلم دیکھی ۔ 'بوم' جس میں فیشن اور انڈر ورلڈ کو ذاتی مفادات کے لئے اکھٹے ہوتے ہوئے دکھایا گیا ھے لیکن بالآخر فیشن ورلڈ کی نازک حسینائیں انڈر ورلڈ کے بیوقوفوں کو مروا کر ان کی دولت لوٹ لینے میں کامیاب ھوجاتیں ہیں اور وہ بھی ایک 'ہاؤس میڈ' کی کامیاب پلاننگ کے نتیجے میں ۔ اس کی تہھ در تہھ پلاننگ سے سب کچھ ممکن ھوجاتا ھے ۔ جب حسینائیں تمام دولت لوٹنے کے قریب ہوتی ہیں تو اچانک ان کا ایک پرانا پارٹنر بوم شنکر چھت سے لٹک کر وارد ہوجاتا ہے اور سارا پلان خراب کردیتا ھے لیکن چالاک ھاؤس میڈ اسے کھیل کے آخر میں نہایت کامیابی سے استعمال کرنے کے بعد اسے اپنے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار کرلیتی ہے اور تھوڑا سا فاصلھ طے کرنے کے بعد پائلٹ کو کہتی ہے : ' کیپٹن پلان سی' اور پائلٹ صاحب یس میڈم کہھ کر بوم شنکر صاحب کے سیٹ کو ایجکٹ کردیتے ہیں ۔ بس یہی کچھ جناب نواز شریف کے ساتھ ہوا ۔
No comments:
Post a Comment