
دبئی سے شائع ہونے والے امارات بزنس نے اپنے 23 اگست 2008 کی اشاعت میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں روس جورجیا کی حالیہ جنگ کے پیچھے ایک اور کہانی بیان کی گئی ہے ۔ اخبار نے اس رپورٹ پر جو سرخی جمائی ہے وہ کچھ اس طرح ہے :بی پی قفقار میں مغرب کا ‘انرجی سرد جنگ‘ لڑنے میں مصروف ہے ۔ بی پی ایک برٹش آئل کمپنی ہے جو آزربائیجان سے خام تیل نکالنے میں مصروف عمل ہے ۔ اس وقت آزربائیجان سے خام تیل نکالنے کے لئے تین مختلف روٹس استعمال ہورہے ہیں ۔ (نقشہ ملاحظہ کریں) پہلا روٹ (این آر ای پی) باکو سے شروع ہوتا ہے اور روس سے گزر کر بحراسود کے نووروسیسک کی بندرگاہ پر ختم ہوتا ہے ۔دوسرا روٹ (ڈبیلو آر ای پی) باکو سے شروع ہوکر جورجیا کی سرزمین میں داخل ہوتا ہے اور اس کے تبیلیس شہر سے ہوتے ہوئے بحراسود کے جورجیائی بندرگاہ سوسپا پر ختم ہوتا ہے جبکہ تیسرا روٹ (بی ٹی سی) باکو اور تبیلیس سے ہوتے ہوئے ترکی میں داخل ہوتا ہے اور اس کے شہر ایرزورم سے ہوتے ہوئے ترکی کے بحرمتوسط پر واقع بندرگاہ چیہان پر ختم ہوتا ہے ۔ رپورٹ کا آغاز کچھ اس طرح کیا گیا ہے: ‘اگر سب کچھ بی پی کے پلان کے مطابق طے پاتا رہا تو دنیا کے اہم ترین جیوستراتیجک تیل سپلائی لائن باکو-تبیلیس-چیہان (بی ٹی سی) میں جلد ہی دوبارہ خام تیل کی ترسیل شروع ہوجائے گی ۔ تاہم اس سے بی پی کے تمام خدشات دور نہیں ہوں گے جس کا اس وقت اسے قفقار میں سامنا ہے کیونکہ روس کے ساتھ اس کی مخالفت پوری طرح ایک ‘انرجی سرد جنگ‘ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔‘ مضمون نگار لکھتا ہے کہ گزشتہ ہفتے باکو سے 45 کلومیٹر دور واقع سنگاچل آئل ٹرمینل سے تیل کی ترسیل تو جاری تھی مگر بہت کم مقدار میں اور وہ بھی - بی پی کے نقطہ نظر سے - غلط سمت میں جارہی تھی ۔ مشرقی ترکی میں بی ٹی سی پر دہشت گردوں کے ممکنہ حملے اور جورجیا کے خلاف روس کی فوجی کاروائی سے یہی محسوس ہورہا ہے کہ خام تیل کی جو محدود ترسیل ہورہی ہے وہ اس طرف چلی جائے گی (نادرن پائپ لائن - این آر ای پی) جہاں بی پی اس کو نہیں جانے دینا چاہتی ۔ یعنی انسویں صدی کے گریٹ گیم میں قفقار کے خطے میں روسیوں کی ایک اور فتح اور مغرب کی شکست ! اس وقت مغرب اور روس کے درمیان قفقار اور کیپسن میں واقع تیل کے سب سے بڑے محفوظ ذخائر پر کنٹرول کے لئے لڑائی جاری ہے ۔ آزربائیجان اس علاقے میں ان ذخائر سے تیل نکالنے مٰیں غالب کردار ادا کررہا ہے ۔ بی پی کو مغرب (امریکا اور ریوپ) کی حمایت حاصل ہے جو ان ذخائر پر روس کے تسلط اور قبضہ سے پریشان ہیں اور اسے محفوظ کرنے اور روس کے ہاتھ سے نکالنے کے آرزومند ہیں ۔ مضمون نگار آگے لکھتے ہیں کہ آزربائیجان کو 1991 میں روس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد دنیا کے انتہائی اہم مگر مسائل سے دوچار تیل ذخائر ورثے میں ملے ۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ ان ذخائر کو استعمال میں لاکر اسے ماڈرنائزیشن اور معاشی ترقی کے لئے کام میں لائے ۔ آزربائیجان اس بات کا بھی خواہشمند ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات اور سنگاپور کی طرح ایس ڈبلیو ایف (ساورن ویلتھ فنڈ) کے ممالک میں شامل ہوجائے لیکن اسے ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ وہ اپنے سابق کامریڈ “روس“ کے انرجی امپیریل ازم اور جنوب میں ایران کے درمیان جکڑا ہوا ہے ۔ (ٰیہاں مضمون نگار نے مغرب کی بات نہیں کی کیونکہ وہ شائد مغرب کو آزربائیجان کے لئے ایک طرح کے نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا چاہ رہا ہے) ۔ مضمون نگار کے مطابق سوویت یونین کے خاتمے سے قبل روس نے یہاں کے ذخائر کو تاراج کرتے ہوئے اسے قبل از رفتہ مشینری سے نکالا اور اس بات کا خیال تک نہیں رکھا کہ اس سے علاقے کے ماحول پر کتنا خراب اثر پڑے گا ۔ روس کے اس طرح کے غیرذمہ دارانہ رویئ کی وجہ سے دارالحکومت باکو اور اردگرد کے علاقوں کے ماحول پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوئے جس کا اب آزری حکومت کو سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ آزادی کے بعد آزری حکومت نے ملک کو بیرونی سرمایہ کاری کے لئے کھول دیا اور اس طرح مغرب کے جدید آلات سے لیس تیل کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کھلے سمندر میں تیل کے ان ذخائر تک رسائی حاصل ہوئی جو روسیوں کے ہاتھ نہیں آسکے تھے ۔ مضمون نگار آگے لکھتا ہے کہ یہی سے بی پی کا عمل دخل شروع ہوتا ہے ۔ اس نے سب سے پہلے کیپسن کے آزر-چراگ-گناشلی فیلڈ پر کام شروع کیا جو خام تیل کی بڑی مقدار کو سنگاچل سپلائی کرتا ہے ۔ بی پی کو شروع سے ہی اندازہ تھا کہ اسے یہاں خام تیل کی سپلائی ، برآمد اور شپنگ میں بہت سے مسائل کا سامنا ہوگا۔ 2002 میں ہی اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ روس علاقے میں تیل کی ترسیل پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے باوجودیکہ ڈبیلو آر ای پی روٹ کے ذریعے تیل کی سپلائی جاری تھی جسے روس سے سے دسترس سے محفوظ تصور کیا جارہا تھا لیکن دو ہفتے قبل اس خام خیالی کا خاتمہ اس وقت ہوا جب روس کے لڑاکا طیاروں نے اس پائپ لائن کے قریب ہی بم گرادیئے ۔ سوسپا روٹ (ڈبیلو آر ای پی) پر تیل کی ترسیل 12 اگست کو معطل کی گئی ۔ بی پی ، جو ان ذخائر کو کسی قیمت پر چھوڑنے پر تیار نہیں ، نے مضمون نگار کے مطابق اس مسئلے کا حل ایک اور پائپ لائن کی صورت میں دیکھ لیا تھا ۔ 2002 ہی میں بی ٹی سی روٹ کا تصور پیش کیا گیا جس میں بحراسود سے گریز کرتے ہوئے اس پائپ لائن کو مشرقی ترکی سے ہوتے ہوئے بحرمتوسط تک پہنچا جائے ۔ چار سال بعد آخر کار چار بلین ڈالر (294 بلین پاکستانی روپے) کی لاگت سے اس 1750 کلومیٹر روٹ کو وجود بخشا گیا جسے بی پی نے بڑے فخر سے “ایسٹ ویسٹ پائپ لائن“ کا نام دیا ۔ اس پائپ لائن کا روٹ موحولیاتی خدشات کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ سیاسی اور جغرافیائی حالات کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ۔ پائپ لائن کو آرمینیا سے بچ کر گزارا گیا کیونکہ 90 کی دہائی میں آزربائیجان کی اس ریاست کے ساتھ تین سال تک لڑائی ہوئی تھی اور اسے مشرقی ترکی جیسے ثقافتی طور حساس علاقے میں شہروں کے نیچے گزارا گیا ۔ مضمون نگار آگے جاکر لکھتا ہے کہ جب پانچ اگست کو اس پائپ لائن کے ایک پمپنگ سٹیشن میں آگ بھڑک اٹھی تھی تو ابتدائی طور پر اسے علحیدگی پسند کردوں کی کاروائی سمجھا گیا ؛ جس کے فورآ بعد پائپ لائن کو مرمت کے لئے بند کیا گیا ۔ تاہم بعد ازاں انکشاف ہوا کہ ایک روسی ٹینک پائپ لائن کے بالکل قریب آگیا تھا اور اس نے پائپ لائن کے بالکل نزدیک کئی گولے داغے ۔ اس سے بی پی کے اُس خوف پر مبنی ‘عظیم تر منصوبے‘ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس کے تحت وہ علاقے میں تیل کی ترسیل کو روس کے اثر سے نکالنے کے لئے کوشاں ہے ۔ مضمون نگار کہتے ہیں کہ باکو میں بی پی کے دفتر نے تیل کی ترسیل کے لئے کوئی معینہ تاریخ دینے سے احتراز کیا ہے تاہم ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے آنے والے رپورٹس کے مطابق بی پی پرامید ہے کہ آئندہ ہفتے ترسیل اس وقت شروع کردی جائے گی جب کنسورشیم کے ترک پارٹنر کی طرف سے مرمتی کام کے مکمل ہوجانے اور اس کے جانج پڑتال کے بعد گرین سگنل مل جائے گا۔ مضمون نگار کے مطابق اس پائپ لائن سے روزانہ 850،000 بیرل خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے جو آزربائیجان کے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اس سے ملک کو ایک بلین ڈالر روزانہ کی آمدن ہوتی ہے جو اس وقت نسبتآ کم نرخ (یعنی 19 ڈالر فی بیرل) کے حساب سے بنتا ہے ۔ عالمی بینک کے مطابق آزربائیجان اسی پائپ لائن (بی ٹی سی) کے آمدن سے 250 بلین ڈالر کے ساتھ ساورن ویلتھ فنڈ کا ممبر بن سکتا ہے ۔
0 comments:
Post a Comment